www.khaleejtimes.com کی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں سرگرم فریلنسرز نے حال ہی میں خود ملازمت ویزوں کے جائزے کے عمل میں سخت تبدیلیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ حکومتی اقدام اس شعبے میں اعتبار اور شفافیت بڑھانے کی سمت میں ایک مثبت قدم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ فریلنسرز کا ماننا ہے کہ یہ اضافی نگرانی دھوکہ دہی اور غلط استعمال کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے اور انہیں نظام پر زیادہ اعتماد فراہم کر سکتی ہے۔ دبئی میں مقیم میڈیا پروفیشنل احمد سلیم اس بارے میں کہتے ہیں: "یہ اقدامات ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ صرف حقیقی اور پرعزم فریلنسرز اس نظام سے فائدہ اٹھائیں گے۔" تاہم، بہت سے فریلنسرز نئے قوانین میں مزید وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ویزا کی درخواست کے عمل میں شفافیت ان کے کام کی حالت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ نئے مراحل اور ضروریات کی تفصیلات کے بارے میں مزید درست معلومات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے کام کو زیادہ اعتماد کے ساتھ جاری رکھ سکیں۔ یہ تبدیلیاں اس وقت ہو رہی ہیں جب دبئی کو فریلنسرز اور کاروباری افراد کے لیے ایک عالمی مرکز کے طور پر جانا جا رہا ہے اور یہ اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ایک محفوظ اور معتبر ماحول فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ فریلنسرز کی اس نقطہ نظر کا خیرمقدم کرتے ہوئے، یہ تبدیلیاں اس شعبے کی ترقی اور بڑھوتری میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ مزید تصاویر اور تفصیلات کے لیے، خبر کے ماخذ کا حوالہ دیں۔