خلاصہ: دبئی میں، گلف نیوز کے ایک قاری نے حال ہی میں اپنے آجر کے لیے 7.5 سال کام کرنے کے بعد اپنی خدمات کے اختتام کی رقم نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انسانی...
دبئی میں، گلف نیوز کے ایک قاری نے حال ہی میں اپنے آجر کے لیے 7.5 سال کام کرنے کے بعد اپنی خدمات کے اختتام کی رقم نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انسانی وسائل اور امارات کی وزارت کی جانب سے 60,000 درہم سے زیادہ کی ادائیگی کا حکم دینے کے باوجود، ابھی تک کوئی رقم جاری نہیں کی گئی ہے۔ یہ ملازم، جو ایک نئی نوکری میں منتقل ہو چکا ہے، مالی اور جذباتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ وہ اپنے آجر کے وعدوں پر اعتماد کرنے پر پچھتا رہا ہے اور اب اپنی رقم وصول کرنے کا طریقہ تلاش کر رہا ہے۔ دبئی کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آجر کو انسانی وسائل کی وزارت کے فیصلوں کی پابندی کرنی چاہیے، اور ان قوانین کی عدم تعمیل کے نتیجے میں قانونی نتائج ہو سکتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے لیبر قانون کے مطابق، خدمات کے اختتام کی رقم معاہدے کی ختم ہونے کی تاریخ سے 14 دن کے اندر ادا کی جانی چاہیے۔ ایک قانونی فرم کے سی ای او احمد الناگر نے اس بات پر زور دیا کہ آجر کے مالی مسائل ملازم کی تنخواہ کی عدم ادائیگی کا جواز نہیں بن سکتے۔ اگرچہ شکایت درج کرنا بہت آسان ہے، لیکن بہت سے ملازمین اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی کی کمی کی وجہ سے اس اقدام سے گریز کرتے ہیں۔ قانون واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ خدمات کے اختتام کی رقم پہلے پانچ سالوں میں ہر سال کی خدمت کے لیے 21 دن کی بنیادی تنخواہ اور ہر بعد کے سال کے لیے 30 دن کی بنیادی تنخواہ کی بنیاد پر حساب کی جاتی ہے۔ یہ کام کی جگہ پر قانونی حقوق کے بارے میں آگاہی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ آخر میں، یہ کہانی نہ صرف مالی چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ملازمین کے حقوق کے بارے میں آگاہی اور ان کے حصول کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہے۔ مزید تصاویر اور اضافی معلومات کے لیے، براہ کرم خبر کے منبع کا حوالہ دیں۔