جن غیر ملکی کاروباری افراد کی رہائش کسی آجر پر نہیں بلکہ اپنے تجارتی لائسنس پر کھڑی ہے، ان کے لیے اس بار تجدید کا موسم پہلے جیسا نہیں رہا۔ سال کے آغاز سے امیگریشن حکام یہ نہیں دیکھ رہے کہ کمپنی رجسٹرڈ ہے یا نہیں، بلکہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ واقعی کام کر رہی ہے یا نہیں۔
پہلی رکاوٹ کرایہ نامہ ہے۔ اب کمپنی کے اپنے نام پر رجسٹرڈ تجارتی معاہدہ لازمی ہے۔ ذاتی نام پر لیا گیا رہائشی معاہدہ قبول نہیں ہوتا۔ کام کی جگہ منظور شدہ تجارتی جگہ ہونی چاہیے، چاہے وہ الگ دفتر ہو، مشترکہ ڈیسک ہو یا گودام، اور اس کی تفصیل لائسنس سے بالکل مطابقت رکھے۔ نام کا فرق یا میعاد ختم ہو جانے والا معاہدہ فائل واپس ہونے کی سب سے عام وجہ ہے۔
دوسری شرط یہ ثابت کرنا ہے کہ ویزا رکھنے والا واقعی ملک میں رہتا ہے۔ درخواست گزار کے اپنے نام اور رہائشی پتے والا حالیہ بجلی اور پانی کا بل اب معمول کے مطابق مانگا جا رہا ہے۔ بعض مراکز ٹیلی کام کا بل بھی قبول کر لیتے ہیں، مگر عمل ہر جگہ یکساں نہیں۔
سب سے مشکل حصہ مالی ہے۔ مقامی بینک سے کمپنی کے کھاتے کی چھ ماہ کی تفصیل درکار ہے، جس میں حقیقی لین دین نظر آئے: گاہکوں سے وصولی، سپلائرز کو ادائیگی، تنخواہیں اور روزمرہ اخراجات۔ مشیر تقریباً پچاس ہزار درہم کے بیلنس اور ہر شراکت دار کے لیے قریباً اڑتالیس ہزار درہم کے رجسٹرڈ سرمائے کی بات کرتے ہیں۔ خاموش پڑا کھاتہ فوراً جانچ کو دعوت دیتا ہے۔
تجارتی لائسنس اور ادارہ کارڈ، دونوں کی کم از کم ساٹھ دن کی مدت باقی ہونی چاہیے۔ شرائط پوری نہ ہونے پر رہائش منسوخ ہو جاتی ہے اور فرد کو ملازمت کے ویزے پر جانا یا ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ سیدھا ہے: چھ ماہ پہلے تیاری شروع کریں۔ بینک کی تاریخ آخری ہفتے میں نہیں بنائی جا سکتی۔