کورن فیری کی "ورک فورس 2026 گلوبل انسائٹس رپورٹ" کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ملازمین اپنی ملازمت پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے اثرات کے حوالے سے دنیا کے پرامید ترین افراد میں شامل ہیں۔ اس سروے میں 11 عالمی منڈیوں کے 16 ہزار سے زائد پیشہ ور افراد کا جائزہ لیا گیا، جن میں یو اے ای اور سعودی عرب سے 500، 500 جواب دہندگان شامل تھے۔

نتائج کے مطابق یو اے ای کے 76 فیصد اور سعودی عرب کے 81 فیصد ملازمین اے آئی کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں — یہ شرح عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ دیگر مقامات پر آٹومیشن کے باعث ملازمتوں کے خاتمے کے بارے میں وسیع خدشات پائے جاتے ہیں۔

پیداواریت کے حوالے سے، یو اے ای کے 68 فیصد ملازمین نے کہا کہ اے آئی نے ان کی کارکردگی بہتر بنائی، جبکہ سعودی عرب میں یہ شرح 78 فیصد ہے۔ تاہم رپورٹ میں دباؤ کی نشاندہی بھی کی گئی: یو اے ای کے 59 فیصد اور سعودی عرب کے 64 فیصد ملازمین نے کہا کہ اے آئی سے ان کے کام کا حجم بڑھا ہے، جبکہ یو اے ای میں 53 فیصد اور سعودی عرب میں 56 فیصد نے خود کو اپنی صلاحیت سے زیادہ دباؤ میں محسوس کیا۔

کورن فیری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اضافی دباؤ کے باوجود خلیجی ممالک کی افرادی قوت دنیا کے بیشتر حصوں کے مقابلے میں کام کی جگہ پر اے آئی کو زیادہ تیزی سے اپنا رہی ہے۔